نئی دہلی،14؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی ایم)میں سیاسی گھمسان مچاہواہے۔پارٹی میں سیتارام یچوری اور پرکاش کرات کے گروہوں کے درمیان سیاسی بالادستی کا تنازعہ ہے۔سی پی ایم نے بدھ کو راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور ایس ایف آئی کے سابق آل انڈیا جنرل سکریٹری کو رتبرتا بنرجی کو پارٹی سے نکال دیا۔گزشتہ دنوں جون میں سی پی ایم نے اپنے نوجوان راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رتبرتا بنرجی کے اخراج کی سفارش کی تھی، جس پر پارٹی کی مرکزی کمیٹی کو بنرجی کے اخراج پر آخری فیصلہ لینا تھا۔بنرجی کو کو یچوری کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ایسی صورت حال میں پارٹی سے نکالنے کو یچوری کی شکست کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔رتبرتا بنرجی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پرکاش کرات کے قریبی مانے جانے والے محمد سلیم پر جم کر بھڑاس نکالی۔جب کہ محمد سلیم پارٹی سے بنرجی کے خلاف شکایات کی تحقیقات کی جانے والی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی قیادت کی تھی ،بنرجی نے سلیم پینل کو ’’کنگارو کمیشن‘‘کہاتھا۔
رتبرتا بنرجی نے ایک انگریزی اخبار کے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی لڑائی پارٹی کے خلاف نہیں، بلکہ پرکاش اور ورندا کرات کے خلاف ہے۔ایسے میں بنرجی کے بیان سے واضح ہے کہ سی پی ایم میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بنرجی نے پارٹی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معطل کرنے کے باعث وہ پریشان ہوگئے تھے،مجھے ایک رسمی خط موصول ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مجھے معطل کردیا اور میرے خلاف ایک انکوائری کمیٹی قائم کی۔انہوں نے کہا کہ میں طویل عرصے تک پارٹی کے لئے خون بہارہا ہوں،میری جنگ پارٹی کے خلاف نہیں ہے، میری لڑائی لوگوں کے گروپ کے خلاف ہے۔پرکاش اور دہلی میں ورندا کرات اور ان کے بنگال ایجنٹ محمد سلیم کے خلاف ہے۔
بنرجی نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ میں کمونیست پارٹی کے پولت بیوروسے کچھ نہیں سیکھا،میں نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے اور وہ صرف ا یک ہی واحد جس نے سب کچھ سیکھا ہے،جو شخص بول رہا ہے میرے خلاف وہ کنگاروں کمیشن کا صدر ہے،وہ محمد سلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یقینی بناتا ہوں کہ کمونیست پارٹی جس کا مقصد معاشرے کو تبدیل کرنا ہے، اس کے پولت بیوروکوٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر آپ مسلمان ہیں توآپ اہل ہیں، اگر آپ خاتون ہیں تو اہل ہیں،یہ کیسے ہوسکتاہے کمیونسٹ پارٹی میں،کیایہ قابل قبول ہے؟ وہ اپنے مذہب کی وجہ سے ایک سیاسی بیورو کے رکن بن گئے ہیں،میرا خیال ہے کہ اگر اس وقت پولٹ بیورو کے رکن ہونے کے مستحق ھے تو گوتم دیو تھے۔